چاند

میرے بابا نے اپنے بچپن میں یاد کی ہوئی نظمیں ہم لوگوں کو بھی یاد کروائیں۔ میں نے آج بھی پوچھا ہےاُن سے کہ آپ نے کہاں سے یاد کیں تھیں یہ نظمیں  مگر بابا کو یاد نہیں ہے۔ آپ کے ساتھ میں ایک نظم جو چاند کے عنوان پہ ہے شئیر کرنا چاہتی ہوں۔

چاند، تاروں کی بارات سے نکلا

چاند سہانی رات سے نکلا

کیا کیا ہے تابانی اس کی 

کرنیں ہیں نورانی اس کی

نور کے چشمے پھوٹ رہے ہیں 

یا فوارے چھوٹ رہے ہیں

اچھی اچھی پیاری دنیا

چاند سے چمکی ساری دنیا

بھولا بھٹکا آئے مسافر 

اپنا رستہ پائے مسافر

بچوں نے کیا بات کہی ہے

بڑھیا چرخہ کات رہی ہے

(شاعر نامعلوم)

2 Comments

  1. Noman Ijaz said:

    Fantabulous

    April 23, 2020
    Reply
  2. Tahira Abdul Karim said:

    Brilliant

    April 24, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *