سنہ ٤ ہجری، سیرت النبی نواں حصّہ

١۔ غزوہ احد غیر فیصلہ کن ثابت ہوئی ۔

٢۔غزوہ احد کے بعد حضور ﷺکفار کے لشکر کے تعاقب کے لیے روانہ ہوئے تاکہ کہیں مکی لشکر  مدینہ پر حملہ کرنےکے لیے واپس نہ آجائے۔ اس غزوہ کا نام غزوہ حمراء الاسد تھا۔

٣۔حادثہ بئرمعونہ میں ستر صحابہ شہید ہوئے ۔

٤۔جنگ احد کے بعد مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والا پہلا قبیلہ بنواسد خزیمہ تھا۔سریہ ابوسلمہ 4 ہجری میں پیش آیا۔

٥۔رجیع کا حادثہ 4ہجری میں پیش آیا۔

٦۔عضل اور قارہ کے کچھ لوگ حضورﷺ سے قرآن پڑھانے کے لیے دس لوگوں کو اپنےساتھ لے گئے اور رجیع کے مقام پر لے جا کر شہید کر دیا۔

٧۔حادثہ بئرمعونہ میں حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ زندہ بچ گئے ۔

٨۔بئرمعونہ کے حادثے سے واپسی پر حضرت عمرو بن امیہ کے ہاتھوں بنوکلاب کے دو لوگ قتل ہو گئے ۔مقتولین کے پاس نبی کریمﷺکی طرف سے عہد موجود تھا۔

٩۔حضورﷺ بنونضیر کے پاس حضرت عمرو کے ہاتھوں قتل ہونے لوگوں کی دیت میں اعانت  سے متعلق بات کرنے گئے ۔ یہود نے حضور ﷺکو شہید کرنے کی سازش کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو یہود کے ناپاک عزائم سے باخبر کر دیا۔

١٠۔رسول اللہ ﷺنے بنو نضیر کو دس دن میں مدینہ چھوڑ کر جانے کا حکم دیا ۔

١١۔عبداللہ بن ابی نے بنونضیر کو ڈٹنے کو کہا اور مدد کا وعدہ کیا۔

١٢۔بنونضیر کے سردار کا نام حیی بن اخطب تھا۔

١٣۔عبداللہ بن ابی کو راس المنافقین کہا جاتا ہے۔

١٤۔غزوہ بنونضیر کے لیے نکلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم کو سونپا گیا۔

١٥۔غزوہ بنونضیر کا علم حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دیا گیا۔

١٦۔جب مسلمانوں نے بنونضیر کا گھیرا ڈالا تو، عبداللہ بن ابی اور بنو نضیر کے حلیف (بنو قریظہ اور بنو غطفان)  بنونضیر کی مدد کو نہ آئے۔

١٧۔بنو نضیر کا محاصرہ صرف چھے رات یا بقول بعض پندرہ دن تک جاری رہا۔

١٨۔تنگ آکر بنونضیر جلاوطنی کے لیے تیار ہوگئے ۔

١٩۔بنونضیر کو اس، شرط پر مدینہ سے جانے کی اجازت ملی کہ وہ اسلحہ ساتھ نہیں لے کر جائیں گے۔

٢٠۔بنونضیر کے لوگ اپنا اسلحہ چھوڑ کر جتنا مال لے جا سکتے تھےساتھ لے گئے ۔یہود کی ایک جماعت شام کی طرف روانہ ہو گئی ۔یہود کے اکابر مثلاً حیی بن اخطب اور سلام بن ابی حقیق نے خیبر کا رخ کیا۔

٢١۔بنونضیر سے حاصل ہوئے جنگی سامان میں پچاس زرہیں،  پچاس خود اور تین سو تلواریں تھیں۔

٢٢۔بنونضیر سے حاصل ہونے والے مال سے خمس نہیں نکالا گیا کیونکہ اس مال کو گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر بزور شمشیر نہیں حاصل کیا گیا تھا۔

٢٣۔بنونضیر سے حاصل ہونے والا مال بطور فئے ملا تھا۔ اس کو آپ نے مہاجرین اولین میں بانٹ دیا۔البتہ انصاری ابودجانہ اور سہیل بن حنیف کو ان کے فقر کے سبب کچھ عطا کیا گیا۔ایک چھوٹا سا حصہ آپ نے اپنے لیےمحفوظ کر لیا جس سے ازواج مطہرات کا سال بھر کا خرچ نکلتا اور جو بچتا اسے جہاد کی تیاری میں استعمال کیا جاتا۔

٢٤۔غزوہ بنونضیر 4ہجری میں پیش آیا۔

٢٥۔غزوہ نجد 4 ہجری میں سرزمین نجد میں پیش آیا ۔

٢٦۔حضرت ابوہریرؓہ نے جنگ خیبر سےچند دن پہلے اسلام قبول کیا ۔

٢٧۔غزوہ احد سے واپسی پر ابوسفیان نے آئندہ سال میدان بدر میں جنگ کے لیے للکارا ۔

٢٨۔غزوہ ذات الرقاع غزوہ خیبر کےبعد پیش آیا۔

٢٩۔صلٰوۃ الخوف پہلے پہل غزوہ عسفان میں پڑھی گئی ۔

٣٠۔4ہجری میں رسول اللہ ﷺنے مدینہ کا انتظام حضرت عبداللہ بن رواحؓہ کو سونپ کر جنگ کے لیے بدر کا رخ کیا۔

٣١۔غزوہ بدر دوم میں اسلامی لشکر کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی اور ان کے پاس دس گھوڑے تھے۔

٣٢۔اسلامی لشکر کا علم حضرت علی کے پاس تھا۔

٣٣۔ابوسفیان پچاس سواروں اور دوہزار کے لشکر کے ساتھ بدر کے لیے روانہ ہوا۔

٣٤۔مراظہران پہنچ کر قریش کے لشکر کی ہمت جواب دے گئی اور وہ جنگ لڑے بغیر واپس چلے گئے ۔

٣٥۔مسلمانوں نے بدر میں آٹھ دن رک کر دشمن کا انتظار کیا۔

٣٦۔غزوہ بدر دوم: غزوہ بدر موعد، بدر ثانیہ، بدر آخرہ اور بدر صغریٰ کے ناموں سے مشہور ہے۔

٣٧۔بدر صغریٰ کے چھے ماہ بعد دومۃالجندل کے گرد قبائل اکٹھے ہو، کر مدینہ پر حملہ کی تیاری کرنے لگے۔

٣٨۔ربیع الاول 5ہجری کو ایک ہزار مسلمانوں کی نفری دومۃ الجندل کے لیے روانہ ہوئی ۔

٣٩۔دومۃالجندل کے محاذ پر جاتے ہوئےرسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ غفاری کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔

٤٠۔اسلامی لشکر کے دومۃالجندل پہنچنے سے پہلے وہاں کے لوگ بھاگ گئے ۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *