پیار کی معیاد

پیار کیا ہے؟ محسوس کیا جانے والا بہت طاقتور جذبہ۔  بڑا چرچا رہتا ہے پیار کا ہر طرف پر سچی بولوں تو  جب کسی کی عادت ہو جائے اور اس کے بغیر گزارا نہ ہوہوتا ہو تو ہم اس کو پیار کا نام دے دیتے ہیں۔پیار مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ایک جو ہمیں پیدائشی طور پہ ملتا ہے۔ ماں باپ ، بہن بھائیوں کا پیار۔ یہ سب سے خالص اور سچا  پیار ہوتا ہے۔ پھر دنیا میں جو مزید رشتے بنتے ہیں ان میں پیار کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ضرورت،لالچ،مجبوری کچھ بھی۔ اب آپ شادی کے رشتے کو لے لیں کچھ تو پیار کا دعویٰ کر کے شادی کر لیتے ہیں دوسرے وہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے باندھ دئیے جاتے ہیں۔اب گلے میں پڑا ڈھول بجانا پڑ جاتا ہے۔ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ پیار ہو گیا ہے پر اصل میں وہ  پیار نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے۔

رشتے بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ جلد سمجھ میں نہیں آتے۔ میرا نہیں خیال کہ ساری زندگی صرف کوئی ایک بندہ آپ کا نور نظر رہے گا۔ عمر کے ہر حصے میں  ہمارا پیار کسی اور کے لیے ابھرتا رہتا ہے۔ آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی ہوگی۔ اگر دنیا میں سب سے بڑی پیار کی مثال ہے تو ایک ماں کا اس کے بچے سے پیار ہے۔ بچے کی دنیا بھی ماں ،باپ، بہن بھائیوں سے شروع ہوتی ہے اور انہیں پر ختم ہوتی ہے۔پھر وقت کے ساتھ پرانے رشتوں کے ساتھ نئے رشتے شامل ہو جاتے ہیں تو پہلے رشتوں کی اتنی اہمیت نہیں رہتی جتنی کبھی تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو نئے رشتوں کی خاطر ماں ، باپ، بہن، بھائی سے جھگڑا تک کیا جاتا ہے۔ شادی کے بعد وہ شخص کل کائنات بن جاتا ہے جس سے شادی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی  رشتہ پھر اچھا نہیں لگتا۔ ان کے درمیان پیار تب بانٹا جاتا ہے جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بچہ ماں کا دلارا  اور بابا کا لا ڈلا ہوتا ہے۔ بچے کی وجہ سےشوہر بیوی کے درمیان آپس کا پیار کم ہوجاتا ہے اور زیادہ توجہ بچے کی طرف ہو جاتی ہے۔بچہ بڑا ہوتا ہے تو اس کا منظور نظر کوئی اور ہو جاتا ہے۔  یوں یہ چکر چلتا رہتا ہے۔ اس سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیار کی معیاد نہیں ہے۔نا جانے کب کم ہو جائے یا ختم ہی ہو جائے۔

2 Comments

  1. Farhan said:

    Right, I agreed.

    May 31, 2020
    Reply
  2. Ain-Ul-Haq said:

    Good

    June 2, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *