میرے بچپن کے دن

میرے بچپن کے دن

بچپن، زندگی کا وہ سنہرا دور جب کوئی فکر نہیں ہوتی، کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جو ضد کرتے وہ پوری ہوجاتی ہے۔ بچے کا رونا نہ کسی سے دیکھا جا تا ہے، نہ سنا جاتا ہے۔ اِدھر بچہ رویا اور اُٖدھر ڈیمانڈ پوری۔ بچے اس بات کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے  ہوئے اپنے تمام مطالبات پورے تروانے کے ماہر ہوتے ہیں۔بچپن میں، بڑے ہونا سب کا خواب ہوتا ہے۔ کبھی کسی بچے کی بات چیت سنیں وہ  یہ ضرور کہے گا کہ میں بڑا ہوا تو ایسے کروں گا ،ویسے کروں گا۔بس یوں سمجھ لیں کہ بچپن کا سہانہ خواب ہی بڑے ہونا ہے۔ ہم سب کا بچپن حسین بھی تھا اور یادگار بھی۔آج بھی کسی بچے کو بے فکری سے کھیلتے ہوئے  دیکھیں تو چہرے پہ ایک مسکراہٹ آتی ہے اور بے اختیار زبان سے نکلتا ہے کہ بچپن کتنا پیارا تھا، کاش ہم بھی بچے ہوتے۔سب کو اپنا بچپن یاد ہے۔ آج مل کر  ان بیتے پلوں کی یاد  تازہ  کرتے ہیں ۔

چھوٹے ہوتے تھے تو جہاز کی آواز سنتے ہی امّی بھاگی آتیں اور اپنی آغوش میں لے لیتیں کہ بچے ڈر نہ جائیں۔خود سکول کے پہلے دن روتے گئےتھے اور  سکول کا عادی ہونے کے بعد چھوٹوں کو کھینچ کر سکول لانے کا شوق ہوتا تھا۔سوئے ہوئے بہن بھائی اتنے پیارے لگتےتھے کہ ان کو جگا دینا تاکہ ان سے کھیل سکیں ۔امی کی بات نہ ماننے پہ امی کی ابو کو شکایت لگانے کی دھمکی سنتے کی سب کی سٹی گم ہو جاتی۔امّی کی ڈانٹ اور ابّو کی مار کے بعد ایک ٹافی یا لولی پاپ کافی ہوتا تھا ہمیں منانے کے لئے ۔باہر کھیلنے جانا تو بچوں سے مار کھا کے آنا۔ڈینٹونک پاؤڈر سے دانت صاف کرنے۔بارش کےپانی میں اچھل کود کرنا۔کاغذ کی کشتی بنا کر پانی میں بہانا۔ کاغذ کا جہاز بنا کر اُڑانا۔کاغذ کا پنکھا بنانا اور اُسی کی ہوا سب سے ٹھنڈی لگنا،گڑیا کے کپڑے سلائی کرنا پھر گڑیا کی شادی کرنا، بجلی کے چلتے پنکھے یا ائیر کولر کے سامنے کھڑے ہو کے ربوٹ کی آواز میں گانا گانایہ سب اُسی سہانے زمانے کی یادیں ہیں۔اپنی کتابوں کو چھوڑ کے چھوٹوں بڑوں سب کی کتابیں اچھی لگتی تھیں۔نئی کلاس کی کتابیں خریدنے کا اور شروع شروع میں ان کے پڑھنے  کا بہت شوق ہوتا تھا۔نئی کتابیں آتے ہی اردو کی کتاب میں موجود تمام کہانیاں پڑھ ڈالنی۔چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنی کتابیں تصویریں دیکھنے کے لئے دینا۔”ڈرامہ عینک والا جن”   اُس وقت کے بچوں کا  پسندیدہ ڈرامہ ہوتا تھا۔ مجھ پہ تو اُس ڈرامے کا اتنا اثر  تھا کہ مجھے یہ لگتا تھاکہ نسطور کے جادوئی پلنگ کی طرح میرا بھی پلنگ اُڑ سکتا ہے۔ اسی یقین کے ساتھ میں روزانہ کھیلتے ہوئے اپنی تمام پسندیدہ چیزوں کو کھیلنے کے لئے بچھائی ہوئی چادر پہ رکھ کر پلنگ اُڑنے کا انتظار کرتی۔گڑیا کے ساتھ کھیلتے ہوئےمیں اور میری بہن گڑیا کا گھر اتنی محنت سے سجاتیں کہ گھر سجاتے سجاتے ہی تھک جاتیں تھیں۔ دن میں کھیلنا اور رات میں بلب کی روشنی میں ہوم ورک کرنا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی چھٹیوں کے کام پر لگ جانا۔ساتھ میں ایک اعلان امی کا بھی ہوتا تھاکہ ” جلدی کام ختم کرو پھر نانی، دادی کے گھر جائیں گے” اور یوں ہم پورے جوش وخروش کے ساتھ مقابلے میں کام کرتے۔ گرمیوں کے لمبے دنوں میں امی کے سونے ے بعد چیونٹیوں اور مکھیوں پر باقاعدہ ریسرچ ہوتی تھی۔فرش پر لیٹ کے چیونٹیوں کی آنکھیں دیکھنا، مکھیاں مار کر چیونٹیوں کو خوراک دینا ۔آسمان پہ اڑتی پتنگیں گنننا۔رات کو تارے دیکھنا۔یہ سب جو اوپر گنا ہے کم ہے۔جو وقت ہم نے گزارا وہ بچپن تھا۔ آج کے بچے کا بچپن ٹیکنالوجی کھا گئی ہے۔ہم لوگ دن میں ایک بار کارٹون دیکھتے تھےاور اب بچوں کا اٹھنا،بیٹھنا،سونا،جاگنا کارٹونز کے ساتھ ہے۔ بچے کارٹونوں کی زبان ہی بولتے ہیں۔

وقت کب پر لگا کے اُڑ گیا پتہ ہی نہیں چلا۔بچپن کی معصومیت کی جگہ احساس ذمہ داری نے لے لی۔ بڑے ہونے پر اپنی خواہش سے زیادہ دوسروں کی امیدوں پہ اترنا اہم ہو گیا۔اب ہم سب کو اپنے بچپن میں جانے کا ویسے ہی شوق ہے جیسے کبھی چھوٹے سےبڑا ہونے کا شوق تھا۔بچپن امید پہ گزرتا ہے اور باقی کی زندگی حسرت میں۔ بچپن میں ایک گانا سنا تھا میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن، آج سمجھ میں بھی آتا ہے کہ واقعی وہ دن اچھے تھے۔

میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن ؎

آج بیٹھے بیٹھائے کیوں یاد آگئے

 

4 Comments

  1. Waheed Tariq said:

    لا جواب

    April 21, 2020
    Reply
  2. Bushra said:

    Splendid article

    April 22, 2020
    Reply
  3. Tanveer said:

    Fabulous

    April 23, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *