معلومات سیرت نبوی

معلومات سیرت نبوی حصّہ سوم

١۔ اسلام قبول کرنے پر حضرت عثمانؓ کا چچا اُن کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیتا۔

 ٢۔ حضرت سعد بن وقاصؓ نے ایک شخص کو ایسی ضرب لگائی کہ خون بہہ گیا۔ یہ اسلام میں پہلا خون تھا جو حضرت سعد بن وقاصؓ نے بہایا۔

٣۔ حضرت سمیّہؓ کو ابو جہل نے شہید کیا۔

٤۔ حضرت سمیّہؓ عمار بن یاسرؓ کی والدہ تھیں۔

٥۔ حضرت خباب بن ارتؓ قبیلہ خُزاعہ کی ایک عورت اُمّ انمار کے غلام تھے۔

٦۔ حضرت خباب بن ارتؓ کو اسلام قبول کرنے کی سزا کے طور پر دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا۔

٧۔ نبوت کے پانچویں سال صحابہ کرام کے پہلے گروہ نے حبشہ ہجرت کی۔

٨۔ ہجرت حبشہ کرنے والے پہلے گروہ میں گیارہ  مرد اور چار عورتیں تھیں۔

٩۔ پہلی ہجرت حبشہ کرنے والے مسلمانوں کے امیر حضرت عثمان بن عفانؓ تھے۔

١٠۔ پہلی ہجرت حبشہ کرنے والوں میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیّہؓ بھی شامل تھیں۔

١١۔ حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت رقیّہؓ کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوط کے بعد یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا پہلا گھرانہ ہے۔

١٢۔ ایک مرتبہ حضوراکرمﷺ نے سورۃ النجم کی تلاوت کی جو سن کر مشرکین بے قابو ہو کر سجدے میں گر گئے۔

١٣۔ دوسری ہجرت حبشہ میں83   لوگ شامل تھے۔

١٤۔ مسلمانوں کو حبشہ سے نکلوانے کے لیے مشرکین نے عمروبن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو بھیجا۔

١٥۔ نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی طرف سےترجمانی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کی۔

١٦۔ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفرؓ نے سورۃ مریم کی تلاوت کی۔

١٧۔ ابولہب کے بیٹے عتیبہ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ایذا رسانی کی جس پر آپؐ نے اُس بدبخت کے لیے بددعاکی ۔

١٨۔ حضرت حمزہؓ نے 6 نبوی میں اسلام قبول کیا۔

١٩۔ حضرت عمرؓ نے 6 نبوی میں اسلام قبول کیا۔

٢٠۔ حضرت عمرؓ نے   حضرت حمزہؓ کے تین دن بعد اسلام قبول کیا۔

٢١۔ حضرت عمرؓ نے   اپنی بہن کے گھر سورۃ طٰہ کی تلاوت کرنے بعد نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

٢٢۔ قریش نے حضرت ابوطالب سے عمار بن ولید کے بدلے حضورﷺکو اُن کے حوالے کرنے کی پیشکش کی۔

٢٣۔مشرکین مکّہ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف عہدوپیمان کیا۔

٢٤۔ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف عہدوپیمان کی دستاویز کو لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔

٢٥۔ ابوطالب  بنی ہاشم اور بنی مطلب کے تمام افراد کو لے کر شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔

٢٦۔ ابولہب نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف مشرکین مکّہ کا ساتھ دیا اور شعب ابی طالب نہ گیا۔

٢٧۔ بائیکاٹ کا واقعہ بعثت کے ساتویں سال کا ہے۔

٢٨۔ حکیم بن حزام حضرت خدیجہؓ کا بھتیجا تھا۔

٢٩۔شعب ابی طالب میں مسلمان تین سال تک محصور رہے۔

٣٠۔ تین سال بعد بائیکاٹ کا صحیفہ دیمک نے چاٹ لیا صرف بسمک اللھم بچا۔

٣١۔ شعب ابی طالب کی محصوری ختم ہونے کے چھے ماہ بعد 10نبوی میں حضر ت ابوطالب کی وفات ہوئی۔

٣٢۔ حضر ت ابوطالب کی وفات کے وقت اُن کی عمر 80 سال سے متجاوز تھی۔

٣٣۔ حضر ت ابوطالب کی وفات کے چند دن بعد حضرت خدیجہؓ وفات پاگئیں۔

٣٤۔ وفات کے وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر 65 سال تھی۔

٣٥۔ جس سال حضرت خدیجہؓ اور حضر ت ابوطالب کا انتقال ہوا رسول اللہﷺ نے اُس سال کو عام الحزن کا نام دیا۔

٣٦۔ عام الحزن کا مطلب ہے غم کا سال۔

٣٧۔ نبوت کے دسویں سال رسول اللہﷺکی شادی حضرت سودہ بنت زَمعہؓ سے ہوئی۔

٣٨۔ حضرت سودہ بنت زَمعہؓ کے پہلے شوہر کا نام سکران بن عمروؓ تھا۔

٣٩۔ حضرت سودہ بنت زَمعہؓ نے اپنے شوہر سکران بن عمروؓ کے ہمراہ  ہجرت حبشہ کی تھی۔

٤٠۔حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد حضرت سودہ بنت زَمعہؓ رسول اللہﷺ کی پہلی بیوی ہیں۔

2 Comments

  1. Rubbab said:

    Good information

    April 29, 2020
    Reply
  2. Ameer Hamza Awan said:

    May Allah help you to share more information

    April 30, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *