معلومات سیرت النبی حصہ ہفتم

٢ ہجری کے اہم واقعات

١۔ زادالمعاد کے مصنف کے نام ابن قیم الجوزی ہے۔
٢۔غزوہ بدر کا سبب قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ تھا جو شام سے واپس آ رہا تھا اس کو اسلامی لشکر روکنا چاہتا تھا۔
٣۔غزوہ بدر کے اسلامی لشکر میں 313 افراد تھے۔
٤۔غزوہ بدر کے اسلامی لشکر کے پاس دو گھوڑے تھے۔
٥۔غزوہ بدر کے موقع پر مدینہ کا انتظام اور مدینہ کی امامت حضرت ابن ام مکتومؓ کے سپرد کی گئی۔
٦۔غزوہ بدر میں مہاجرین کا علم حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ کو دیا گیا۔
٧۔غزوہ بدر میں انصار کا علم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دیا گیا۔
٨۔غزوہ بدر کی جنرل کمان کا پرچم حضرت معصب بن عمیر  رضی اللہ عنہ کو دیا گیا جو سفید رنگ کا تھا۔
٩۔غزوہ بدر میں اسلامی لشکر کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ اسلامی لشکر کے پاس غزوہ بدر میں ستر اونٹ تھے۔
١٠۔ابتدا میں مکی لشکر کی تعداد تیرہ سو تھی۔ جن کے پاس گھوڑے،  چھے سو زرہیں اور اونٹوں کی کثرت تھی۔
١١۔غزوہ بدر میں مشرکین کا پرچم نضر بن حارث کے ہاتھ میں تھا۔
١٢۔لشکر قریش کا سپہ سالار ابو جہل بن ہشام تھا۔
١٣۔ابوسفیان کا لشکر مدینہ کے لشکر سے بچ نکلا اور اس نے مکی لشکر کو پیغام بھیجا کہ وہ لوٹ آئیں مگر ابوجہل نہ مانا۔
١٤۔ابوسفیان کا پیغام سنتے ہی بنو زہرہ کے لوگ مکہ لوٹ گئے اور مکی لشکر کی تعداد ایک ہزار رہ گئی ۔
١٥۔غزوہ بدر شروع ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺنے حضرت علیؓ،  حضرت زبیؓر اور حضرت سعد بن وقاصؓ پر مشتمل ایک جاسوسی دستہ تیار کیا۔
١٦۔عتبہ بن ربیعہ کے صاحبزادے ابو حذیفؓہ قدیم الاسلام تھے اور غزوہ بدر میں شامل تھے۔
١٧۔غزوہ بدر کے معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبدالاسد مخزومی بنا۔
١٨۔غزوہ بدر میں قریش کی طرف سے نکلنے والے پہلے تین شہسوار  عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔
١٩۔قریش کے شہسواروں کا مقابلہ کرنے کے لیے انصار کی طرف سے عوف بن حارثؓ، معوذ بن حارثؓ اور عبداللہ بن رواحؓہ نکلے۔
٢٠۔قریش نے اپنے مقابلے کے لیے مہاجرین کو بلایا۔ مہاجرین میں سے عبیدہ بن حارثؓ، حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓنکلے۔
٢١۔حضرت عبیدہ بن حارثؓ کا مقابلہ عتبہ بن ربیعہ سے ہوا۔
٢٢۔حضرت حمزہؓ کا مقابلہ شیبہ سے ہوا۔
٢٣۔حضرت علیؓ کا مقابلہ ولید سے ہوا۔
٢٤۔غزوہ بدر کے موقع پر ابلیس بنو کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں نمودار ہوا۔
٢٥۔میدان جنگ میں ابلیس فرشتوں کی کاروائیاں دیکھ کر بھاگ گیا۔
٢٦۔ابوجہل کا قتل دو انصاری نوجوانوں نے کیا۔
٢٧۔ابوجہل پر حملہ کرنے والوں کے نام معاذ بن جموحؓ اور معاذ بن عفرا ؓتھا۔
٢٨۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کا سر تن سے جدا کر دیا۔
٢٩۔غزوہ بدر میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا ۔
٣٠۔غزوہ بدر مین حضرت عکاشہ محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی تلوار  ٹوٹ گئی۔
٣١۔حضور اکرم ﷺنے حضرت عکاشہ کو ایک لکڑی دی جو اللہ کے حکم سے دھار دار تلوار بن گئی ۔
٣٢۔غزوہ بدر میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔
٣٣۔ غزوہ بدر میں مشرکین کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قیدہوئے ۔
٣٤۔مکہ میں سب سے پہلے غزوہ بدر میں شکست ہونے کی خبر لے کر آنے والا شخص جیسمان بن عبداللہ خزاعی تھا۔
٣٥۔ابولہب عدسہ کی بیماری سے مرا۔
٣٦۔عدسہ ایک قسم کا طاعون تھا۔ عدسہ کی گلٹی کو عرب بہت منحوس سمجھتے تھے۔
٣٧۔ابولہب کی لاش تین دن تک بےگوروکفن پڑی رہی۔
٣٨۔ابولہب کی لاش کو اس کے بیٹوں نے ایک گڑھا کھود کر اس میں دھکیل دیا اور اوپر سے پتھر ڈال دئیے ۔
٣٩۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ا پنی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا کی بیماری کی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے ۔
٤٠۔غزوہ بدر کے بعد حضورﷺ نے تین دن بدر میں قیام کیا۔
٤١۔جنگ ختم ہونے کے بعد جنگی قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کر دیا گیا۔
٤٢۔غزوہ بدر کے بعد دکھلاوے کے لیے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کر لیا۔
٤٣۔غزوہ بدر کے قیدیوں  سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا۔
٤٤۔غزوہ بدر کے قیدیوں میں حضور ﷺکے داماد بوالعاص بھی قیدی بن کر آئے۔
٤٥۔حضرت زینبؓ نے اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے حضرت خدیجؓہ کا دیا ہوا ہار دے کر بھیجا۔
٤٦۔ 2ہجری میں رمضان کا روزہ اور صدقہ فطر فرض ہوا۔
٤٧۔مسلمانوں نے زندگی کی جو پہلی عید منائی وہ شوال 2ھ کی تھی۔
٤٨۔غزوہ بدر کو فتح مبین کہا جاتا ہے۔
٤٩۔غزوہ بنو سلیم بہ مقام کُدر پیش آیا۔
٥٠۔غزوہ بنی سلیم، غزوہ بدر سے واپسی کے سات دن بعد پیش آیا۔
٥١۔بنو قینقاع کا سب سے شریر آدمی کعب بن اشرف تھا۔
٥٢۔غزوہ بنو قینقاع کے موقع پر مدینہ کا انتظام حضور ﷺنے ابولبابہ  بن عبدالمنذرؓ کو سونپا۔
٥٣۔بنوقینقاع خزرج کے حلیف تھے۔
٥٤۔عبداللہ بن ابی نے اصرار کر کے بنوقینقاع کو قتل ہونے سے بچا لیا۔
٥٥۔بنوقینقاع کو جلاوطن کر دیا گیا۔وہ مدینہ سے نکل کر آذرعات شام کی طرف چلے گئے ۔
٥٦۔غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک سر نہ دھوئے گا جب تک بدر کے مقتولوں کا بدلہ نہ لے لے۔
٥٧۔ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے اطراف میں عریض نامی ایک مقام پر حملہ کیا۔اس حملے میں دو لوگوں کو قتل کر کے اور کچھ درخت کاٹ کے ابوسفیان کا لشکر بھاگ نکلا۔
٥٨۔بھاگتے ہوئے ابوسفیان کا لشکر ستو اور بہت سا سازوسامان پھینک کر بھاگ گیا۔اس لیے اس غزوہ کو غزوہ سویق کہا جاتا ہے۔
٥٩۔سویق عربی زبان میں ستو کو کہتے ہیں۔
٦٠۔کعب بن اشرف کا تعلق قبیلہ طی کی شاخ بنو نبھان سے تھا۔
٦١۔کعب بن اشرف ایک شاعر تھا۔
٦٢۔کعب بن اشرف کو حضرت محمد بن مسلمؓہ نے قتل کیا۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *