معلومات سیرت النبی حصہ ششم

١۔ رسول اللہﷺ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو انصار کی بچیوں نے اشراق البدر علینا اشعار پڑھے۔

٢۔مدینہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ بنو نجار کے محلے میں اترے۔یہ آپ کا ننھیال والوں کے محلہ تھا۔

٣۔رسول اللہ ﷺمدینہ پہنچ کر حضرت ابو ایوبؓ انصاری کے گھر ٹھہرے ۔

٤۔حضورﷺ کی اونٹنی سنبھالنے کے لیے حضرت اسعد بن زرارہؓ  اپنے گھر لے گئے۔

٥۔مدینہ میں بنو نجار کے ہاں رسول اللہ ﷺبروز جمعہ،  12 بیع الاول 1 ہجری،  27 ستمبر 622ء کو پہنچے۔

٦۔حضور ﷺکے مدینہ پہنچ جانے کے چند دن بعد حضورﷺ کی زوجہ حضرت سودہؓ،  دو صاحبزادیاں حضرت فاطمہؓ اور حضرت ام کلثومؓ، اسامہ بن زیدؓ، اُم ایمنؓ اور آل ابو بکرؓ سب مدینہ آگئے۔

٧۔جنگ بعاث کے بعد اوس اور خزرج نے اتفاق سے عبداللہ بن ابی سلول کو اپنا سردار مقرر کر لیا۔

٨۔یہودی عربوں کو انتہائی حقارت سے اُمّی کہتے تھے ۔

٩۔اُمّی کا مطلب یہود کے نزدیک بدھو، وحشی، رذیل، پسماندہ اور اچھوت کے تھے۔

١٠۔یثرب میں یہود کے تین قبائل تھے۔

١١۔یثرب میں یہود کے تین قبائل بنو قینقاع، بنونظیر اور بنو  قریظہ تھے۔

١٢۔عبداللہ بن سلام یہود کے بلند پایا عالم تھے۔

١٣۔حضورﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے مسجد تعمیر کرنے کا کام کیا۔

١٤۔مسجد کے وہ جگہ منتخب کی جہاں حضور اکرم کی اونٹنی بیٹھی تھی۔

١٥۔مسجد نبوی کے لیے منتخب کی گئی جگہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی۔

١٦۔مسجد نبویؐ کی تعمیر کے وقت تین دروازے لگائے گئے۔

١٧۔مسجد کے ساتھ منسلک ازواج مطہرات کے لیے حجرے تعمیر کیے گئے۔

١٨۔ابتدا اسلام میں قبلہ بیت المقدس تھا۔

١٩۔مسجد نبویؐ کی بنیاد تین ہاتھ گہری رکھی گئی ۔

٢٠۔مسجد نبویؐ محض ادائے نماز کے لیے نہ تھی بلکہ یہ ایک یونیورسٹی بھی تھی۔

٢١۔مسجد نبوی کے ساتھ اصحاب صفہ کے لیے چبوترہ تعمیر کیا گیا۔

٢٢۔مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کرنے کے لیےحضرت انس بن مالکؓ کے گھر پر سب کو اکٹھا کیا گیا۔

٢٣۔حضرت انس بن مالکؓ کے مکان پر مواخات کے لیے 90 لوگ جمع ہوئے۔آدھے انصار اور آدھے مہاجر ۔

٢٤۔مواخات مدینہ کے مطابق موت کے بعد نسبی قرابتداروں کی بجائے وہی لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔وراثت کا یہ حکم جنگ بدر تک قائم رہا۔

٢٥۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا گیا۔

٢٦۔یہود کے ساتھ معاہدہ کے بعد مدینہ اور اس کے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئی جس کا دارلحکومت مدینہ تھا۔

٢٧۔یہود اور مہاجرین کے درمیان ہونے والا معاہدہ میثاق مدینہ کہلایا۔

٢٨۔مستشرقین کے بقول  میثاق مدینہ کے معاہدہ کی 47 دفعات ہیں۔مولانا شبلی اور ابن ہشام کے نزدیک دفعات کی تعداد 53 ہے۔

٢٩۔امیہ بن خلف کی کنیت ابو صفوان تھی۔

٣٠۔سریہ ایسی جنگی مہم جس میں حضور نے بنفس نفیس خود شرکت نہیں کی۔

٣١۔غزوہ وہ جنگیں جن میں حضور نے خود شرکت کی تھی۔

٣٢۔پہلا جنگی جھنڈا حضورﷺکے ہاتھوں باندھا گیا اورپہلا  جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔

٣٣۔سریہ سیف البحر کے امیر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے۔

٣٤۔غزوہ ابوء کا دوسرا نام غزروۃ الوَدّان تھا۔

٣٥۔غزوہ ابواء کے موقع پر حضور ﷺنے مدینہ میں حضرت سعد بن عبادہ ؓکو اپنا قائم مقام مقرر کیا۔

٣٦۔غزوہ ابواء پہلی مہم تھی جس پر حضور خود تشریف لے گئے۔

٣٧۔غزوہ ابواء کے موقع پر حضورﷺ نے مدینہ سے باہر پندرہ دن گزارے۔

٣٨۔ 1 ہجری میں ہونے والی جنگی مہمات۔سریہ سیف البحر، سریہ سفوان، غزوہ ذی العشیرہ، سریہ نخلہ

٣٩۔غزوہ سفوان کو غزوہ بدر اولٰی کہتے ہیں۔

٤٠۔غزوہ سفوان میں مدینے کی امارت زید بن حارثؓ کو سونپی گئی۔

٤١۔اسلامی تاریخ کا پہلا خمس سریہ نخلہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت سے نکالا گیا۔

٤٢۔سریہ نخلہ میں عمرو بن حضرمی مقتول ہوا۔ یہ پہلا مقتول تھا اسلامی تاریخ کا۔

٤٣۔عبداللہ بن مغیرہ کا بیٹا اور حکیم بن کیسان پہلے قیدی تھے اسلامی تاریخ کے۔

٤٤۔غزوہ سفوان میں کرز بن جابر فہری نے ایک مختصر فوج لے کر مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور کچھ مویشی لوٹ لیے۔

٤٥۔ سریہ نخلہ کا دستہ حضرت عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں بھیجا گیا۔

2 Comments

  1. Jibran said:

    very informative

    May 3, 2020
    Reply
  2. Mustafa Qalandrani said:

    MashaAllah
    Bahut Aala Allah Ap Ko Is Ka Ajar dey

    May 3, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *