غزوہ بنو قریظہ

غزوہ بنو قریظہ

 

١.غزوہ خندق سے واپسی پر حضرت جبریل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ  ﷺسے فرمایا کہ آپ اپنے رفقاء کے ساتھ بنوقریظہ کا رخ کیجئے۔

٢.بنو قریظہ کے لیے روانگی کے وقت مدینہ کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم کو سونپا گیا۔

٣.جنگ کا پھریرا حضرت علی کے حوالے کیا گیا۔

٤.اسلامی لشکر کی تعداد تین ہزار تھی۔

٥.اسلامی لشکر نے بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔جب محاصرہ سخت ہو گیا تو یہود کے سردار کعب بن اسد نے یہودیوں کے سامنے تین تجاویز پیش کیں۔

یا اسلام قبول کر لیں۔

یا اپنے بیوی بچوں کو قتل کر کے لڑنے کے لئے نکل پڑیں۔

سنیچر کے دن دھوکے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیں یہود نے کوئی تجویز قبول نہ کی۔

٦.جنگ بنوقریظہ ایک اعصابی جنگ تھی اللہ نے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔

٧.قبیلہ اوس اور بنو قریظہ اسلام سے پہلے حلیف تھے۔

٨.قبیلہ اوس نے رسول اللہﷺ سے بنو قریظہ کے لئے سفارش کی۔

٩.بنو قریظہ کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا۔

١٠.حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔

١١.حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا فیصلہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے۔

١٢.بنو قریظہ نے مسلمانوں سے بد عہدی کی تھی اور مسلمانوں کے خاتمے کے لیے کفار کو اسلحہ مہیا کیا تھا۔

١٣.فیصلے کے بعد بنو قریظہ کو بنو نجار کی ایک عورت کے گھر میں قید کر دیا گیا۔

١٤.بنو قریظہ کے مردوں کی گردنیں ماری گئیں جن کی تعداد تقریبا چھ اور سات سو کے درمیان تھی۔

١٥.بنو قریظہ کے ساتھ بنو نضیر کا شیطان حیی بن اخطب  بھی اپنے انجام کو پہنچا۔

١٦.حیی بن اخطب جنگ احزاب کا بڑا مجرم تھا۔

١٧.حیی بن اخطب حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ تھا۔

١٨.بنو قریظہ کی ایک عورت نے چکی کا پاٹ پھینک کر ایک صحابی کو قتل کیا اس عورت کو بھی بدلے میں قتل کر دیا گیا۔

١٩.بنو قریظہ کے اموال کا خمس نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم کر دیا۔

٢٠.شہسوار کو تین حصے دئیے گئے ایک حصہ اس کا اپنا ، دو گھوڑے کے اور پیدل کو ایک حصہ دیا گیا۔

٢١.بنو قریظہ کے محاصرے میں ایک صحابی خلاد بن سوید چکی کا پاٹ گرنے کی وجہ سے شہید ہوئے۔

٢٢.غزوہ بنو قریظہ ذیقعد 5 ہجری میں پیش آیا۔

٢٣.بنو قریظہ کا محاصرہ 25 روز تک قائم رہا۔

٢٤.اللہ تعالی نے غزوہ احزاب اور غزوہ بنو قریظہ سے متعلق سورۃ احزاب میں بہت سی آیات نازل فرمائیں۔

٢٥.سلام بن ابی الحقیق کی کنیت ابو رافع تھی۔

٢٦.سلام بن ابی الحقیق یہود کے اکابر مجرمین سے تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو بھڑکانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

٢٧.سلام بن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیے پانچ آدمیوں کا دستہ روانہ ہوا۔ان سب کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔

٢٨.ابو رافع کا قلعہ خیبر میں تھا۔

٢٩.ابو رافع کو عبداللہ بن عتیک  رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔

٣٠.ابورافع کا قتل ذیقعدہ یا ذی الحجہ 5 ہجری میں ہوا۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *