غزوہ احزاب کے بعد کے سرایا اور غزوات

غزوہ احزاب کے بعد کے سرایا اور غزوات

 

١۔احزاب اور قریظہ کی جنگوں کے بعد پہلا سریہ محمد بن مسلمہ پیش آیا۔

٢۔ سریہ محمد بن مسلمہ کا نشانہ بنو بکر بن کلاب کی ایک شاخ تھی۔جب ان کو اسلامی لشکر کی آمد کی خبر ہوئی کو دشمن کے سارے افراد بھاگ نکلے۔

٣۔ اسلامی لشکربنو بکر بن کلاب کے چوپائے اور بکریاں ہانک کر مدینہ لے آئے۔

٤۔ اس سریہ کے دوران اسلامی لشکر کے ہاتھ ثمامہ بن اثال حنفی لگا اس کو بھی گرفتار کر کے مدینہ لایاگیا۔

٥۔ ثمامہ بن اثال مسیلمہ کذاب کے حکم پر بھیس بدل کر نبی کریم ﷺکو قتل کرنے نکلا تھا۔

٦۔ ثمامہ بن اثال کو مدینہ لاکر مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔

٧۔نبی کریم ﷺ کے حکم سے صحابہ کرام نے ثمامہ کو آزاد کر دیا ثمامہ نے مسجد نبوی کے قریب ایک کھجور کے باغ میں جا کر غسل کیا اور واپس آکر اسلام قبول کرلیا۔

٨۔اسلام قبول کرنے کے بعد ثمامہ عمرہ کے لئے مکہ گیا۔ قریش نے ثمامہ سے کہا تم بدین ہوگئے ہو۔

٩۔ثمامہ بنو حنیفہ کا سردار تھا اور اس کا تعلق یمامہ سے تھا۔

١٠۔ثمامہ نے اپنے وطن واپس جاکراہل  مکہ کے لئے غلہ کی روانگی بند کر دی۔ یمامہ اہل مکہ کے لئے کھیت کی مانند تھا جب قریش پر غلے کی قلت ہوئی ہوگی تو غلے کی مشکلات کے پیش نظر قریش نے رسول اللہ ﷺ کو قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے یمامہ سے غلے کی روانگی بحال کرنے کی سفارش کروائی۔

١١۔بنو لحیان جنہوں نے رجیع کے مقام پر صحابہ کرام کو شہید کیا تھا۔ ربیع الاول یاجمادی الاو 6 ہجری میں دو سو صحابہ کی معیت میں رسول اللہ نے رجیع کے مقام پر مقتولین کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔

١٢۔ غزوہ بنو لحیان کے موقع پر حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر کیا گیا۔

١٣۔ بنو لحیان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ پہاڑوں میں چھپ گئے۔

١٤۔رسول اللہ ﷺنے مدینہ کے باہر 14 دن قیام کیا۔

١٥۔ربیع الاول یا ربیع الآخر 6 ہجری میں عکاشہ بن محصن  رضی اللہ عنہ کو چالیس افراد کی کمان دے کر مقام غمر کی طرف بھیجا گیا۔

١٦۔مسلمانوں کی آمد کا سن کر دشمن بھاگ گیا۔ مسلمان ان کے دو سو اونٹ ہانک کر مدینہ لے آئے۔

١٧۔سریہ عیص ستر سواروں پر مشتمل تھا، حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ ہوا۔

١٨۔سریہ عیص میں  نبی کریم ﷺ کے داماد ابو العاص کی قیادت میں جانے والا ایک لشکر حضرت زید کے لشکر کے  ہاتھ لگا۔

١٩۔ابوالعاص گرفتار نہ ہو سکے اور بھاگ کر مدینہ آگئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پناہ لے کر رسول اللہ سے اپنے قافلے کا مال واپس مانگا۔

٢٠۔ابو العاص نے مکہ پہنچ کر لوگوں کا مال ان کو واپس کیا اور واپس آ  کر اسلام قبول کرلیا۔ صحابہ کرام نے بلاتردد سارا سامان واپس کردیا-

٢١۔حضور اللہ  ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کو پہلے نکاح کی بنیاد پر حضرت ابوالعاص کے ساتھ رخصت کردیا۔

٢٢۔ سریہ وادی القری بارہ آدمیوں پر مشتمل تھا اور حضرت زید کی قیادت میں تھا۔دشمن نے نو صحابہ کو شہید کردیا۔ تین صحابہ زندہ  بچے جن میں ایک حضرت زید تھے۔ یہ 6 ہجری کا واقعہ ہے۔

٢٣۔سریہ خبط تین سو سواروں پر مشتمل تھا۔ اس سریہ کا مقصد قریش کے ایک قافلے کا پتا لگانا تھا۔

٢٤۔سریہ خبط میں بھوک سے دوچار ہو کر صحابہ کرام کو پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانا پڑے اس لیے اس کا نام جیش خبط پڑ گیا۔ خبط جھاڑے جانے والے پتوں کو کہتے ہیں۔

٢٥۔اسی سریہ کے دوران ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تینوں ذبح کیے، پھر تینوں ذبح کیے اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ  رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا۔اس کے بعد سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی پھینک دی۔جس کو صحابہ کرام آدھا مہینہ کھاتے رہے۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *