غزوہ احزاب سنہ 5 ہجری دسواں حصہ

غزوہ احزاب سنہ 5 ہجری

دسواں حصہ

١۔ جلاوطن  ہونے کے بعد بنو نضیر کے بیس سردار قریش کے پاس حاضر ہوئے اور ان کو رسول اللہ ﷺکے خلاف جنگ کے لیے آمادہ کیا۔

٢۔یہود کے قبائل نے عرب قبائل میں گھوم کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب کی۔

٣۔اس جنگ میں بہت سے قبائل مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لیے تیار ہوگئے اس لیے اس غزوہ کو غزوہ احزاب کہتے ہیں۔

٤۔تمام قبائل نے ایک مقررہ وقت کے مطابق مدینہ کا رخ کیا اور چند دن میں مدینہ کے پاس دس ہزار کا لشکر جمع ہو گیا۔

٥۔لشکرِ کفار کی اطلاع ملتے ہی رسول ﷺنے مجلس شوریٰ منعقد کی اور دفاعی منصوبے پر صلاح ومشورہ کیا۔

٦۔حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دیا گیا جس کو پسند کیا گیا ۔

٧۔ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا کام سونپا گیا۔

٨۔خندق کھودنے کے موقع پر کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان آگئی ۔رسول اللہ ﷺنے چٹان پر پہلی ضرب لگائی اور فرمایا کہ مجھے شام کی کنجیاں مل گئی ہیں۔ دوسری ضرب لگائی اور فرمایا مجھے فارس دے دیا گیا ہے،  پھر تیسری ضرب لگائی اور فرمایا مجھے یمن کی کنجیاں دے دی گئی ہیں

٩۔مدینہ شمال کے علاوہ باقی اطراف سے حرے(لاوے کی چٹانوں)  پہاڑوں اور کھجوروں کے باغات سے گھرا ہوا تھا اس لیے خندق صرف مدینہ کے شمال کی جانب کھودی گئی ۔

١٠۔مسلمانوں پر حملہ کرنے والے لشکر میں قریش کی تعداد چار ہزار تھی ۔

١١۔کفار کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺتین ہزار مسلمانوں کی نفری لے کر تشریف لائے ۔

١٢۔غزوہ احزاب کے موقع پر مدینہ کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا۔

١٣۔عمرو بن عبدود،  عکرمہ بن ابی جہل اور ابن ضرار بن خطاب نے ایک تنگ جگہ سے خندق پار کر لی۔

١٤۔عمرو بن عبدود نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مبارزت کے لیے للکار ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ مقابلے کے لیے اس کے سامنے آئے اور اس کا کام تمام کر دیا۔

١٥۔غزوہ احزاب میں دست بدست لڑائی کی نوبت نہ آسکی صرف دونوں اطراف سے تیراندازی ہوتی رہی۔

١٦۔غزوہ احزاب میں چھے مسلمان شہید ہوئے اور دس مشرک قتل ہوئے جن میں سے دو تلوار سے قتل ہوئے ۔

١٧۔ غزوہ احزاب میں تیراندازی کے نتیجے میں حضرت سعد بن معاذ  رضی اللہ عنہ کو ایک تیر لگا جس سے ان کے بازو کی رگ کٹ گئی ۔غزوہ بنوقریظہ کے بعد آپ اسی زخم کی وجہ سے وفات پا گئے ۔

١٨۔غزوہ خندق کے دوران بنو نضیر کا سردار حُیی بن اخطب بھی بنوقریظہ سے آملا۔

١٩۔حُیی بن اخطب نے بنوقریظہ کے سردار کعب بن اسد سے وعدہ کیا کہ اگر غزوہ خندق کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو جو تمہارا انجام ہو گا وہی میرا انجام ہو گا۔

٢٠۔غزوہ خندق کے دوران عورتوں اور بچوں کو حضرت حسانؓ کے فارع نامی قلعہ میں رکھا گیا۔

٢١۔حضرت صفیؓہ بنت عبدالمطلب نے قلعے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ایک یہودی کو قتل کردیا ۔جس سے دوبارہ یہودیوں کو قلعے کی طرف ٰآنے کی ہمت نہ ہوئی۔

٢٢۔رسول اللہ ﷺکو بنوقریظہ کی عہد شکنی کی خبر ہوئی تو آپ نے حضرت سعد بن معاذؓ،  سعد بن عبادہؓ،  عبداللہ بن رواحؓہ اور خوات بن جبیؓر کو اس خبر کی تحقیق کے لیے روانہ کیا۔

٢٣۔بنوقریظہ کی عہدشکنی سے مسلمانوں میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔جس کو سورۃ احزاب میں بیان کیا گیا ہے۔

٢٤۔رسول اللہ ﷺکے پاس بنوغطفان کا ایک شخص آیا جو مسلمان ہو چکا تھا مگر اس کی قوم کو اس بات کا علم نہ تھا۔ اس کا نام نعیم بن مسعود تھا۔نعیم بن مسعود نے بنوقریظہ اور قریش کے قبائل میں ایسی باتیں پھیلائیں جس سے گروہوں کے آپس کے تعلقات خراب ہوگئے، ان کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ گیا۔

٢٥۔غزوہ خندق میں محاصرے کے دوران اللہ نے ایک ایسا طوفان بھیجا جس سے سخت سردی پڑی ، کافروں کے خیمے اکھڑ گئے،  ہانڈیاں الٹ گئیں اور حوصلے پست ہو گئے ۔

٢٦۔اس سرد اور کرکڑاتی رات میں رسول اللہﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمان کو کفار کی خبر لانے بھیجا۔صبح ہوئی تو دشمن میدان خالی کر چکا تھا۔

٢٧۔غزوہ خندق صحیح قول کے مطابق شوال 5 ہجری میں پیش آیا۔

٢٨۔مشرکین نے ایک ماہ تک رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کا محاصرہ جاری رکھا۔

٢٩۔جنگ احزاب درحقیقت جان و مال کی جنگ نہ تھی بلکہ اعصاب کی جنگ تھی۔

٣٠۔غزوہ احزاب کی واپسی پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا اب ہم ان (قریش) پر چڑھائی کریں گے وہ ہم پر چڑھائی نہیں کریں گے۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *