غزوہ احد، سیرت النبی، آٹھواں حصؔہ

١۔غزوہ بدر کے بعد مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے سرداران قریش عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیّہ،  ابو سفیان بن حرب اور عبداللہ بن ربیعہ پیش پیش تھے۔
٢۔ابوسفیان کا وہ قافلہ جو غزوہ بدر کا سبب بنا، اہل مکہ نے اس کا سارا مال مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے خرچ کر دیا۔
٣۔ابوسفیان کے تجارتی قافلے کی مقدار ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار تھی۔
٤۔غزوہ احد میں شاعر ابوعزہ اور شاعر مسافح بن عبدالمناف جمحی نے قریش کے جذبات کو بھڑکایا۔
٥۔لشکر میں عزت و ناموس کا احساس بڑھانے کے لیے پندرہ عورتیں بھی شامل کی گئیں ۔
٦۔قریشی لشکر کی تعداد تین ہزار تھی۔
٧۔قریش کے لشکر میں سواری اور باربرداری کے لیے تین اونٹ تھے اور رسالے لے لیے دو سو گھوڑے تھے۔
٨۔غزوہ احد میں قریشی لشکر کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔
٩۔قریشی لشکر کے رسالے کی کمان خالد بن ولید ر کو دی گئی اور عکرمہ بن ابی جہل کو ان کا معاون بنایا گیا۔
١٠۔قریش کی جنگی تیاریوں کی خبر حضرت عباس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجی۔
١١۔حضرت عباس کی کی بیوی کا نام ام الفضل تھا۔
١٢۔قریش کا لشکر جب ابوا کے مقام پر پہنچا تو ہند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺکی والدہ کی قبر اکھیڑنے کی تجویز دی مگر ایسا نہ کیا گیا۔
١٣۔اکثریت صحابہ نے مدینہ سے باہر نکل کر جنگ لڑنے کا مشورہ دیا۔
١٤۔رسول اللہ ﷺنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔
١٥۔مہاجرین کے دستے کا پرچم حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو دیا۔گیا۔
١٦۔قبیلہ اوس کا پرچم اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا۔
١٧۔قبیلہ خزرج کا علم حباب بن منذرضی اللہ عنہ کو عطا کیا گیا ۔
١٨۔اسلامی لشکر کی تعداد ایک ہزار تھی۔جس میں ایک سو زرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے۔
١٩۔مدینہ کی امامت حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئی ۔
٢٠۔غزوہ بدر میں رافع بن خدیج اور سمرہ بن جندب کو صغرسنی کے باوجود جنگ میں شرکت کی اجازت مل گئی تھی۔
٢١۔رافع بن خدیج ایک ماہر تیر انداز تھے۔
٢٢۔سمرہ بن جندب اتنے طاقتور تھے کے حضرت رافع کو کشتی میں بچھاڑ دیا۔ اس طرح ان کو جنگ میں شرکت کی اجازت مل گئی ۔
٢٣۔شوط کے مقام پر پہنچ کر عبداللہ بن ابی تین سو افراد کو یہ کہہ کر واپس لے گیا کہ کہ آپ نے مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے کا میرا مشورہ نہیں مانا۔
٢٤۔عبداللہ بن ابی کے گروہ کی علیحدگی کے بعد اسلامی لشکر کی تعداد سات سو رہ گئی ۔
٢٥۔حضور ﷺنے حضرت عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں پچاس تیر انداز ایک درّے پر مقرر کیے ۔ وہ پہاڑی آج جبل رماۃ کے نام سے مشہور ہے۔
٢٦۔غزوہ احد شوال 3 ہجری مین پیش آیا۔
٢٧۔غزوہ احد کے موقع پر حضور ﷺنے ایک تلوار حضرت ابودجانہ ضی اللہ عنہ کو عنایت فرمائی۔
٢٨۔مشرکین کے لشکر کا جھنڈا بنوعبدالدار کے پاس تھا۔
٢٩۔جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئےقبیلہ بنوعبدالدار کے سارے مرد مارے گئے ۔
٣٠۔قریشی عورتوں کی قیادت ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ کر رہی تھی۔
٣١۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا، ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، میرا حواری زبیر ہے۔
٣٢۔غزوہ احد میں جہنم کا پہلا ایندھن مشرکین کا علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ عبدری بنا۔
٣٣۔طلحہ بن ابی طلحہ کو مسلمان کبش الکتیبہ(لشکر کا مینڈھا)  کہتے تھے۔ یہ شخص نہایت بہادر شہسورتھا۔
٣٤۔غزوہ احد میں حضرت ابودجانؓہ سر پر سرخ پٹّی باندھ کر لڑے۔
٣٥۔انصار حضرت ابودجانہ کی سرخ پٹّی کو موت کی پٹّی کہتے تھے۔
٣٦۔حضرت حمزؓہ کے قاتل کا نام وحشی بن حرب تھا۔
٣٧۔وحشی بن حرب جبیر بن مطعم کا غلام تھا۔
٣٨۔وحشی بن حرب نے اپنے آقا کے کہنے پر حضرت حمزہؓ کو شہید کیا اور بدلے میں آزادی حاصل کی۔
٣٩۔ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبایا۔
٤٠۔ایک شخص عبد عمر بن صیفی جاہلیت میں اوس کا سردار تھا۔اسے راہب کہا جاتا تھا۔
٤١۔رسول اللہﷺنے عمر بن صیفی کا نام فاسق رکھا۔
٤٢۔ابوعمر فاسق نے جنگ شروع ہونے سے پہلے مسلمانوں میں شر پھیلانے کی کوشش کی۔
٤٣۔حضرت حنظلؓہ ابوعامر فاسق کے بیٹے تھے ۔
٤٤۔حضرت حنظلہؓ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔اس وقت ان پر غسل واجب تھا۔ فرشتوں نے ان کو غسل دیا اس طرح حضرت حنظلؓہ کا نام غسیل ملائکہ پڑا۔
٤٥۔عتبہ بن ابی وقاص نے حضور کو پتھر مارا جس سے آپﷺ کا نچلا رباعی دانت ٹوٹ گیا۔
٤٦۔رسول اللہ ﷺکے چہرہ مبارک میں خود کی کڑیاں دھنس گئی تھیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر کڑیاں نکالیں اور ایسا کرتے ہورحضرت عبیدہ کے دو دانت گر گئے ۔
٤٧۔غزوہ احد میں حضرت سعد بن وقاص نبی کریمﷺ کی حفاظت میں تیر چلاتےتھے۔حضور ﷺنے خوش ہو کر حضرت سعد کو فرمایا میرے ماں باپ تم پر قربان۔
٤٨۔رسول اللہ ﷺنے حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا جو  کوئی روئے زمین پر کسی شہید کو چلتا دیکھنا چاہے وہ طلحہ کو دیکھ لے۔
٤٩۔حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا بھائی عتبہ بن ابی وقاص حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھوں مارا گیا۔
٥٠۔مسلمانوں کو جنگ میں نقصان تیراندازوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور قریش کے گھڑ سواروں نے پیچھے سے حملہ کر دیا۔
٥١۔حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ حضور کے ہم شکل تھے۔
٥٢۔حضرت معصب رضی اللہ عنہ کی شہادت پر نبی کریم ﷺکی شہادت کی افواہ پھیل گئی ۔
٥٣۔ابی بن خلف کی گردن پر حضور ﷺکے ہاتھوں نیزے کا چھوٹا سا زخم لگ گیا اور وہ اس زخم سے تڑپ تڑپ کے مرا۔
٥٤۔نبی کریم ﷺکی شہادت کی افواہ ابن قمیہ نے پھیلائی تھی۔
٥٥۔غزوہ احد کے میدان میں جو مومن خواتین میدان جنگ میں پہنچیں وہ حضرت امّ امارہؓ، امّ سلیمؓ، حضرت امّ ایمن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاتھیں ۔
٥٦۔ایک انصار اصیرم اسلام قبول کرتے ہی جنگ لڑنے آگئے اور ابھی ایک نماز کا بھی وقت نہ آیا تھا کہ شہید ہو گئے ۔
٥٧۔غزوہ احد کے شہداء کو بغیر غسل دیئے دفن کرنے کا حکم دیا گیا۔
٥٨۔حضرت حمزہ کو حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھ دفن کیا گیا۔
٥٩۔غزوہ احد میں حضرت حمنہ بنت جحش کے بھائی عبداللہ بن جحش،  شوہر حضرت معصب بن عمیر اور ماموں حضرت حمزہ شہید ہوئے ۔
٦٠۔غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے ۔

4 Comments

  1. Mustafa Qalandrani said:

    Good Work …

    May 14, 2020
    Reply
  2. DR. M. Rafiq said:

    Ye q wrng he 14 the 8 ansari sahabi karam or 6 muhajar sahaba karam
    ٦٠۔غزوہ بدر میں ستر مسلمان شہید ہوئے

    May 15, 2020
    Reply
    • DR. M. Rafiq said:

      Ma Sha Allah bht ala work he continue…

      May 15, 2020
      Reply
    • admin said:

      ٹائپ کرتے ہوئے غلطی ہو گئی۔ ٖغزرہ بدر میں نہیں غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے ، الرحیق المختوم صفحہ نمبر 385۔ غور سے پڑھنے کے لیے شکریہ۔ غلطی کی اصلاح کر دی گئی ہے۔

      May 16, 2020
      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *