عورت کی گالی

تھوڑا سا وقت نکال کر اس تحریر کو ضرور پڑھیے گا۔

جب کوئی کسی سے انتہائی نفرت اور غصّے کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو چند حرف منہ سے بے اختیار نکلتے ہیں جس کو سامنے سننے والا گالی کہتا ہے۔ ویسے تو گالیاں ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں لیکن سب سے عام اور سستی گالی جو ہر گلی بازار میں میں سننے میں آتی ہے،اسے عورت کی گالی کہتے ہیں خصوصاً ماں کی گالی، بہن کی گالی۔ یہ گالیاں دینے والے بڑے فخریہ انداز میں یہ الفاظ ادا کرتے ہیں۔ میرے کانوں سے جب بھی ایسے الفاظ ٹکراتے ہیں  میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ آخر ایسی بھی کیا مصیبت آ گئی ہے کہ اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لئے اتنے  الفاظ  کم ہو گئے ہیں لوگوں کے پاس کہ انہیں عورت کے مقدس رشتوں کو گالی کی صورت میں استعمال کرنا پڑتا ہے۔

میں اپنی بات کو مزید سمجھانے کے لئے اپنی زندگی میں ہونے والے دو واقعات کا حال بیان کرنا چاہتی ہوں۔عموماً سفر کے دوران بڑی بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹرز کی زبان بہت خراب دیکھی ہے۔ جب بھی ان کی بس کے سامنے کوئی موٹرسائیکل یا چھوٹی گاڑی آجائے، اپنی گاڑی کی رفتار کو کم کیے بغیر سامنے والے گاڑی میں بیٹھے ڈھیروں گالیاں دے کر اپنا دل خوش کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے اپنی امّی کے ساتھ ایک بس میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔بس کو اپنا سفر شروع کیے ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ کنڈکٹر نے بس کے شیشے سے باہر جھانکا اور ایک آدمی کو گالی دی۔میں ان الفاظ کا یہاں ذکر نہیں کرنا چاہتی مگر میری بات ادھوری رہ جائے گی اگر میں اس گالی کا ذکر نہ کروں۔کنڈکٹر بولا “کھوتی دا پتر”۔ اس کے یہ الفاظ سنتے ہی اچانک اس دن میرے ذہن میں ایک سوال آیا کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔ میں نے ساتھ بیٹھی امّی کو مخاطب کر کہ پوچھا کہ کہ اس آدمی نے ایسے کیوں کہا۔وہ اکیلا “کھوتی” کیوں بولا بچہ تو وہ کھوتے کا بھی ہے نا؟  امّی نے مجھے حیرت سے دیکھا اور چپ ہو گئیں ۔ مگر میرے دماغ پر یہ سوال نقش ہو گیا۔حالانکہ اسے ایسی گالی نہ تو سامنے والے کی ماں کو دینی چاہیےتھی،  نہ باپ کو مگر مجھے ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ کنڈکٹر نے سامنے والے کی ماں کو ہی کیوں نشانہ بنایا۔

دوسرا واقعہ کچھ ایسے پیش آیا کہ میں بازار سے واپس گھر آرہی تھی۔میں نے ایک بچہ دیکھا جو ایک دوکان کی سیڑھی پر بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا ۔جس کی عمر لگ بھگ 14 سال ہو گی۔جب میں چلتی ہوئی قریب پہنچی اور مجھے اس کی باتیں سنائی دینے لگی میں نے سنا کہ وہ سامنے والی دوکان پہ کھڑے ایک بچے کو کچھ کہہ رہا تھا۔آپ کو بھی میں بتانا چاہوں گی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ اس نے کہا ” تیری ماں کھوتی اے”۔ وہ یہ جملہ مسلسل دہرا رہا تھا اور وہاں پر موجود دوکاندار اور بچے اس کو سن رہے تھے۔مجھ سے یہ دیکھ کر خاموش نہیں رہا گیا اور میں نے اس کو پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔وہ بولا جی میں اس کو کہہ رہا ہوں کہ تم ۔۔۔۔ کے بیٹے ہو۔میں نے ڈانٹ کے اسے چپ ہونے کو کہا مگر وہ نہیں رکا وہ مسلسل اپنی بات کو دہراتا رہا یہاں تک میں چلتی ہوئی اتنی دور چلی گئی کہ اس کی آوازسنائی دینا  بند ہو گئی۔

یہ دو اکیلے واقعات نہیں ہیں ۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو ایسی گالیاں گلی کوچوں میں شاید  آپ نے بھی سنی ہوں گی۔مگر آپ کہیں گے کہ کان بند کر لینے چاہیے۔ایسی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینی چاہیےوغیرہ وغیرہ۔ مگر میرے دماغ میں سوالوں کا ایک طوفان ہے ۔ اگر کسی کی وقعت کم کرنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہو جائےگالی دینا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ جو بھی کہنا ہے وہ سامنے والے کو کہہ لو ماں باپ تک جانا زیادہ ضروری ہے کیا؟  گالی ماں کو دی جاتی حالانکہ بچہ تو اپنے ماں باپ دونوں کا ہوتا ہے مگر شاید ماں کا نام لینا آسان ہے۔ان گالیوں کے علاوہ بھی جو غلیظ الفاظ لوگ دوسروں کی ماں بہن کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ سب ان کے دماغوں کا گند ہے۔جس کو کسی نے صاف کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، کیوں کہ سننے والے سن  کر ان سنا دیتے ہیں بلکہ میں یہ کہوں گی کہ کئی لوگ تو گالی سن کر ہنستے ہیں ،میں نے خود دیکھا ہے بڑوں کو دیکھ کر جب بچے گالی دینا شروع کرتے ہیں تو اس پر خوش ہوا جاتا ہے۔ غلاظت بکنے والے اپنی زبان سے اس معاشرے کو گندہ کرتے رہتے ہیں۔جو گالیاں وہ دوسروں کو دیتے ہیں وہ پلٹ کر اپنے گھر آجاتی ہیں۔آپ یہ مت سوچیے گا کہ میں ایک عورت ہونے کہ ناطے ایسا لکھ رہی ہوں۔سب کے گھر میں ماں اور بہن کا رشتہ موجود بھی ہے اور پیارا بھی ہے۔ میں چاہتی کہ جب کبھی آپ کو اتفاقاً ایسے الفاظ کہیں سنائی دیں تو سامنے والے کو ٹوکیں اور اسے بتائیں کہ بھائی اوۤل تو گالی دیں نہیں اور اگر آپ نے گالی دینی ہی ہے تو جس پہ غصّہ ہے اس کو دیں اس کے ماں باپ کو کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟

ساتھ میں ایک بات ہیں خواتین سے بھی آپ اگر بڑوں کو کچھ نہیں کہہ سکتی ہیں تو اپنے بیٹوں کی پرورش ایسی کریں کہ ان کی زبان مہذب ہو۔اگر آپ کو میری رائے سے اختلاف ہے تو مجھے ضرور آگاہ کیجیے گا تاکہ میں اپنی سوچ بدل سکوں۔

2 Comments

  1. Amana said:

    Well Said

    April 23, 2020
    Reply
  2. Laiqat said:

    Comprehensible

    April 23, 2020
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *